بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے نائب سیکرٹری، ڈآکٹر علی باقری کنی نے ایک گفتگو میں بتایا کہ خطے کے تین اعلیٰ حکام ایران آئیں گے تاکہ قومی سلامتی کونسل کے سپریم کونسل کے سیکرٹری جنرل محسن رضائی سے ملاقات اور مشاورت کریں اور ایک مشترکہ اجلاس میں شرکت کریں۔
ڈاکٹر باقری نے ان ممالک کے حکام کی شرکت کی سطح کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: طے شدہ مفاہمت کے مطابق، سعودی عرب کے وزیر دفاع امیر خالد بن سلمان، پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور ترکی کی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ ابراہیم کالین اس اجلاس میں شرکت کریں گے۔
انھوں نے کہا: ان حکام کے دورہ تہران مشترکہ اجلاس کے انعقاد کا مقصد خطے کی سلامتی، علاقائی ممالک کے ذریعے، فراہم کرنے کے تصور کو آگے بڑھانا اور تیسری مسلط کردہ جنگ میں ایران کے کامیاب تجربے سے فائدہ لینا، ہے۔
انھوں نے مزید کہا: اسلامی جمہوریہ ایران کا دفاعی ماڈل اندرونی اور داخلی صلاحیتوں پر مبنی ہے اور یہ قومی سلامتی کے لئے ایک کامیاب نمونہ بن چکا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے نائب سیکرٹری نے زور دے کر کہا: اسلامی جمہوریہ ایران کی حکمت عملی یہ ہے کہ خطے کی سلامتی خطے کے ممالک ہی فراہم کریں اور یقینی بنائیں۔ غیر ملکیوں کی ہر قسم کی مداخلت اور ان کا اثر و رسوخ ـ جن میں سر فہرست امریکی حکومت ہے، اور غیر قانونی صہیونی ریاست بھی اس میں ایک خاص سطح پر کردار ادا کرتا ہے ـ خطے کی سلامتی اور استحکام کے لئے نقصان دہ ہے۔
ڈاکٹر باقری نے کہا: تہران میں چار ممالک کا مشترکہ اجلاس خطے کی اندرونی سلامتی کی تشکیل کے عمل میں ایک مؤثر اور اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
انھوں نے خطے کے ممالک کی شرکت کے ساتھ اندرونی سلامتی قائم کرنے کے ایرانی تصور ـ تیسری مسلط جنگ میں ـ ایرانی قوم اور مسلح افواج کی فتح و کامیابی کا ثمرہ ہے اور ہمیں امید ہے کہ اس تصور کو جامۂ عمل پہنایا جائے گا اور مغربی ایشیا استحکام اور سکون تک پہنچ جائے گا۔
اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے نائب سیکرٹری نے گذشتہ ہفتے پاکستان کے آرمی چیف کے دورہ تہران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: جنرل عاصم منیر نے اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری جنرل محسن رضائی سے ملاقات میں سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے اعلیٰ حکام کے تہران آنے اور مشترکہ اجلاس منعقد کرنے کے فیصلے کی خبر دی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ